یہ مضمون اس اہم سوال کا تفصیلی تجزیہ پیش کرتا ہے کہ مساجد کے ائمہ کو کم تنخواہیں کیوں دی جاتی ہیں، اس میں علما اور عوام دونوں کی ذمہ داری کیا ہے، عملی حل کیا ہو سکتے ہیں، اور مذہبی قیادت کے احترام کی اجتماعی اخلاقی ذمہ داری کیا ہے۔
Table of Contents
علما، عوام اور مسجد کمیٹیوں کی مشترکہ ذمہ داری
مساجد کے ائمہ کو کم تنخواہیں ملنے کا مسئلہ صرف مالی نہیں ہے۔ یہ ایک اخلاقی، سماجی اور دینی مسئلہ ہے۔ مسلم معاشروں میں امام وہ شخصیت ہوتا ہے جو دن میں پانچ وقت نماز کی امامت کرتا ہے، جمعہ کا خطبہ دیتا ہے، بچوں کو قرآن پڑھاتا ہے، نکاح، جنازہ، مشورہ اور اصلاح جیسے اہم فرائض انجام دیتا ہے۔ اس کے باوجود اکثر ائمہ کی تنخواہ اتنی کم ہوتی ہے کہ وہ بنیادی ضروریات بھی مشکل سے پوری کر پاتے ہیں۔
جب اس مسئلے پر بات ہوتی ہے تو عموماً سارا بوجھ عوام یا مسجد کمیٹیوں پر ڈال دیا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ لوگ چندہ نہیں دیتے یا کمیٹیاں کنجوسی کرتی ہیں۔ لیکن یہ تصویر کا صرف ایک رخ ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ اس صورت حال کے ذمہ دار صرف عوام ہیں یا خود علما بھی کسی حد تک اس کے ذمہ دار ہیں۔ اس سوال کا جواب دیانت داری اور خود احتسابی کے بغیر ممکن نہیں۔
ائمہ کو کم تنخواہ کیوں دی جاتی ہے؟
اکثر مساجد میں امام کی تنخواہ ایک عام مزدور سے بھی کم ہوتی ہے۔ یہ اس وقت زیادہ حیران کن لگتا ہے جب ہم امام کی ذمہ داریوں پر غور کرتے ہیں۔ امام صرف نماز پڑھانے والا نہیں بلکہ پوری بستی یا محلے کی دینی اور اخلاقی رہنمائی کا ذمہ دار ہوتا ہے۔
ایک وجہ تو واقعی مالی کمزوری ہے، خاص طور پر غریب علاقوں میں۔ لیکن ایک بڑی وجہ جس پر کم بات ہوتی ہے، وہ یہ ہے کہ خود ائمہ کم تنخواہ پر کام کرنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔ جب کسی مسجد میں جگہ خالی ہوتی ہے تو امیدواروں کی کمی نہیں ہوتی۔ اگر ایک امام دس ہزار مانگتا ہے تو دوسرا آٹھ ہزار پر تیار ہو جاتا ہے۔ اس مقابلے میں مسجد کمیٹی کو یہ پیغام ملتا ہے کہ یہ خدمت سستی ہے اور آسانی سے کی جا سکتی ہے۔ آہستہ آہستہ امام کے عہدے کی قدر کم ہوتی چلی جاتی ہے۔
علما اور ائمہ کا کردار
یہاں خود احتسابی ضروری ہے۔ بہت سے علما گھریلو مجبوریوں، مالی دباؤ یا بے روزگاری کے خوف کی وجہ سے ایسی شرائط قبول کر لیتے ہیں جو ان کی اپنی عزت کے خلاف ہوتی ہیں۔ مسجد میں آنے سے پہلے اکثر یہ طے نہیں کیا جاتا کہ اصل ذمہ داریاں کیا ہوں گی۔ کیا امام صرف دینی رہنمائی کرے گا یا صفائی، بیت الخلا دھونا، اور ذاتی کام بھی اس کے ذمے ہوں گے؟
اکثر جگہوں پر امام یہ سب کام خاموشی سے قبول کر لیتا ہے، صرف اس خوف سے کہ کہیں نوکری نہ چلی جائے۔ وہ ہر بات پر ہاں کہتا ہے، چاہے وہ غلط ہی کیوں نہ ہو۔ اس رویے کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ عوام کی نظر میں امام ایک رہنما کے بجائے ایک ملازم بن جاتا ہے۔ یہ حقیقت تلخ ضرور ہے، مگر سچ ہے۔ جب علما خود حدیں مقرر نہیں کرتے تو دوسرے لوگ ان کی حدیں خود بنا لیتے ہیں۔
عوام اور مسجد کمیٹیوں کی ذمہ داری
دوسری طرف عوام اور مسجد کمیٹیاں بھی بری الذمہ نہیں ہو سکتیں۔ بہت سی کمیٹیاں مسجد کی عمارت، تزئین و آرائش اور تقریبات پر تو کھل کر خرچ کرتی ہیں، مگر امام کی تنخواہ کے معاملے میں ہاتھ روک لیتی ہیں۔ امام کو ایک ایسے ملازم کے طور پر دیکھا جاتا ہے جس کی رائے کی کوئی خاص اہمیت نہیں۔
کبھی تنخواہ دیر سے ملتی ہے، کبھی غیر ضروری تنقید ہوتی ہے، اور کبھی دینی معاملات میں بے جا مداخلت کی جاتی ہے۔ اگر امام قرآن اور حدیث کی روشنی میں کوئی کڑوی بات کہہ دے تو اس پر دباؤ ڈالا جاتا ہے کہ خاموش رہے۔ یہ رویہ پورے معاشرے کی روحانی صحت کے لیے خطرناک ہے۔ جو قوم اپنے دینی رہنماؤں کو عزت اور تحفظ نہیں دیتی، وہ آہستہ آہستہ اخلاقی سمت کھو دیتی ہے۔
کم تنخواہوں کے نتائج
اس نظام کے اثرات صرف جیب تک محدود نہیں رہتے۔ کم تنخواہ امام کی خود اعتمادی کو مجروح کرتی ہے، ذہنی دباؤ بڑھاتی ہے، اور گھریلو مسائل پیدا کرتی ہے۔ بہت سے ائمہ اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں فکرمند رہتے ہیں۔ اسی لیے کئی علما اپنے بچوں کو دینی تعلیم کے بجائے عام اسکولوں میں بھیجنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، اس لیے نہیں کہ وہ دین سے دور ہیں، بلکہ اس لیے کہ وہ اپنے بچوں کو اسی تنگی میں نہیں دیکھنا چاہتے۔
جب باصلاحیت اور سمجھدار لوگ دینی شعبے سے دور ہونے لگیں تو نقصان پورے معاشرے کو ہوتا ہے۔ قیادت کا معیار گرتا ہے اور دینی ادارے اندر سے کمزور ہو جاتے ہیں۔
عملی حل اور قابل عمل تجاویز
اس مسئلے کا حل ممکن ہے، بشرطیکہ دونوں فریق سنجیدگی دکھائیں۔
سب سے پہلے ائمہ کو اپنی قدر پہچاننی ہوگی۔ ایسی تنخواہ قبول کرنا جو بنیادی ضروریات بھی پوری نہ کرے، تقویٰ نہیں بلکہ ایک غلط روایت کو مضبوط کرنا ہے۔ وقتی بے روزگاری مشکل ہو سکتی ہے، مگر طویل مدت کی عزت زیادہ اہم ہے۔ مسجد میں آنے سے پہلے ذمہ داریوں اور حقوق پر واضح بات ہونی چاہیے۔
دوسرا اہم نکتہ علما کا اتحاد ہے۔ جب تک ایک امام کم تنخواہ لینے سے انکار کرے اور دوسرا کم پر تیار ہو جائے، حالات نہیں بدلیں گے۔ کم از کم ایک مشترکہ معیار طے ہونا ضروری ہے۔
تیسرا کردار مسجد کمیٹیوں کا ہے۔ اگر کمیٹیاں کم از کم قابل قبول تنخواہ مقرر کر دیں اور اس سے کم پر اشتہار نہ دیں تو صورت حال بدل سکتی ہے۔ یہ لالچ نہیں بلکہ انصاف ہے۔
چوتھا، خود داری کا عملی مظاہرہ ہے۔ امام کو اخلاص کے ساتھ خدمت کرنی چاہیے، مگر غلامی کے ذہن کے ساتھ نہیں۔ عزت مانگی نہیں جاتی، واضح رویے اور مستقل کردار سے بنتی ہے۔
امام کے حقوق
اسلام میں دینی رہنماؤں کی عزت پر خاص زور دیا گیا ہے۔ امام کا حق ہے کہ اسے عزت ملے، بروقت تنخواہ دی جائے، منصفانہ تنقید ہو، اور دینی رہنمائی میں آزادی حاصل ہو۔ اس کے وقت، خاندان اور ذہنی سکون کی قدر کی جائے۔ امام کو دین کا خادم سمجھا جائے، ذاتی ملازم نہیں۔ امام کی عزت دراصل اس دین کی عزت ہے جس کی وہ نمائندگی کرتا ہے۔
مشترکہ ذمہ داری
امام کی کم تنخواہ کا بوجھ کسی ایک فریق پر نہیں ڈالا جا سکتا۔ علما کو اپنی خاموشی توڑنی ہوگی اور عوام کو اس خاموشی کا فائدہ اٹھانا بند کرنا ہوگا۔ اصل اصلاح تب آئے گی جب دونوں اپنی ذمہ داری تسلیم کریں گے۔
امام مسجد میں ایک مجبور نوکری کے متلاشی کے طور پر نہیں بلکہ ایک رہنما کے طور پر آئے۔ اور کمیونٹی اسے بوجھ نہیں بلکہ اثاثہ سمجھے۔
نتیجہ
مساجد کے ائمہ کی کم تنخواہوں کا مسئلہ ایک مشترکہ ناکامی ہے جو وقت کے ساتھ مضبوط ہوتی چلی گئی ہے۔ جب علما ناانصافی کو خاموشی سے قبول کرتے ہیں تو نظام کمزور ہوتا ہے۔ جب عوام اور کمیٹیاں امام کی مالی اور جذباتی ضروریات کو نظرانداز کرتی ہیں تو ظلم معمول بن جاتا ہے۔ دونوں کا انجام ایک ہی ہے۔
دینی خدمت کا مطلب ذلت یا مسلسل جدوجہد نہیں ہونا چاہیے۔ ایک ایسا امام جو کرایہ، فیس اور بنیادی ضروریات کی فکر میں مبتلا ہو، وہ پوری توجہ سے رہنمائی نہیں کر سکتا۔ اسی طرح دینی قیادت میں وقار خود داری سے شروع ہوتا ہے۔ علما کو واضح بات کرنی ہوگی اور قربانی کے نام پر غربت کو معمول نہیں بنانا ہوگا۔
عوام کو بھی اپنی ترجیحات پر نظر ثانی کرنی ہوگی۔ عمارتیں اور پروگرام اہم ہیں، مگر انسان زیادہ اہم ہے۔ ایک باعزت اور معاشی طور پر مطمئن امام ایمان، اتحاد اور اخلاقی سمت کو مضبوط کرتا ہے۔ اس کی مدد خیرات نہیں بلکہ مستقبل کی سرمایہ کاری ہے۔
جب علما متحد ہوں گے اور عوام خلوص سے سنیں گے، تب ہی حقیقی اصلاح ممکن ہے۔ عزت جب دونوں طرف سے بحال ہوگی تو مسجد ایک بار پھر رہنمائی کی جگہ بنے گی، خاموش تکلیف کی نہیں۔
حوالہ
Wages for Alims and Imams. & Issue of Salary for Teachers, Preachers, Imams, and Muezzins
مزید اسے پڑھیں