کیا یہ صحیح ہے کہ آج پوری دنیا میں سب سے زیادہ جہالت، رذالت اور پچھڑا پن مسلمانوں میں ہے؟ کیوں ہمار حیثیت ٹوٹے ہوئے خشک پتوں کی طرح ہو گئی ہے کہ جو چاہتا ہے اور جہاں چاہتا ہے، جب چاہتا ہے ہمیں بے رحمی سے مسل دیتا ہے؟ ہم پوری دنیا میں ہر دن ظلما قتل کیے جا رہے ہیں۔ ہم پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں۔ اس کے باوجود دنیا میں ہمارا چرچہ دہشت گرد کے طور پر ہوتا ہے۔ ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا۔ ہمیں ہی قاتل کہے گی دنیا ،ہمارا ہی قتل عام ہوگا ہمیں کویں کھودتے پھریں گے ہمیں پہ پانی حرام ہوگا کیا دنیا میں مسلمانوں کا وجود ہی منحوس ہے کہ اس کے قتل اور اذیت رسانی سے لوگوں کو خوشی ہوتی ہے؟
بنگلہ دیش میں ایک ہندو پر ظلم ہوتا ہے تو ہندوستان کے ساتھ پوری دنیا میں اس کی مذمت ہوتی ہے۔ لیکن فلسطینی بچوں اور عورتوں کی ہلاکت و بربریت پر اگر کوئی کھلاڑی فلسطینی جھنڈے کا اسٹیکر اپنے ہیلمٹ پر چسپاں کرلے تو اسے گرفتار کر لیا جاتا ہے۔ ایسا کیوں؟ دوسری طرف ہم مسلمانوں کا دعوی ہے کہ ہم دنیا کے سب سے زیادہ بہتر لوگ ہیں۔ اور یہ صحیح ہے کہ حقیقی مسلمان دنیا کے سارے لوگوں میں سب سے بہتر ہیں۔ جیسا کہ قرآن مقدس میں ہے كُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّةٍ تم دنیا کے سب سے بہتر امت ہو۔
(آیت نمبر 110، سورہ آل عمران) اور یہ بھی دعوی ہے کہ ہم ہی پوری دنیا میں سب سے سر بلند یعنی دنیا کے حکمراں ہیں۔ جیسا کہ مومنین کے بارے میں قرآن مقدس میں ہے۔ وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ (آیت نمبر 139، سورہ آل عمران) یقیناً ہمارے علاوہ کوئی بھی حکمراں ہونے کا مستحق نہیں ہے۔ اللہ تعالی نے ہمیں ہی دنیا کی خلافت عطا کی ہے۔ اور یہ اللہ تعالی کا وعدہ ہے وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِی الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ۪-(آیت نمبر 55، سورہ النور) اللہ تعالی نے وعدہ کیا ہے ان ایمان والوں سے جو نیک عمل کرتے ہیں انہیں روئے زمین پر خلیفہ بناؤں گا۔ مسلمانوں کے علاوہ پوری دنیا میں کوئی امت اس بات کے دعویدار نہیں کہ ہماری ہدایت و رہنمائی کے لیے کم و بیشک ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء و مرسلین تشریف لائے ہیں۔ کیا یہ دعویٰ صحیح نہیں ہے؟
معلوم تاریخ کی تہذیب و ثقافت اور حسن اخلاق و کردار میں جو شخصیت پوری دنیا میں سب سے زیادہ اہم، معظم، مکرم اور ہر طرح کے خوبیوں اور اچھائیوں کی حامل ہے وہ ہمارے ہی رسول محتشم سید المرسلین خاتم النبیین آقائے دو عالم، سرور عالم نور مجسم رحمت اللعالمین شفیع المذنبین حضرت احمد مجتبی محمد مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی ذات ستودہ صفات ہے۔ اور ہم انہی کی امت ہیں۔ اس کے باوجود ہمارا یہ حال ہے؟ پوری دنیا میں صرف ایک کتاب قرآن مقدس ہے جو شک و شبہ سے بھی پاک ہے؛ ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَیْبَ فِیْهِ جو دنیا کے سارے لوگوں کے لیے کامل ہدایت کا سرچشمہ ہے ؛هُدًى لِّلنَّاسِ اور ہمیں یہ اعجاز حاصل ہے کہ پوری دنیا میں صرف ہم ہی اس کتاب مقدس کو حق مانتے ہیں اور ہمارا ہی عقیدہ ہے کہ قرآن و سنت پر عمل کرنے والا دنیا و آخرت میں عزت والا ہے۔
اور موجود سچائی یہ ہے کہ ہم اس وقت اس دنیا میں اس لیے مارے جا رہے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں۔ اور شاید آخرت میں بھی ہمارا حشر اچھا نہ ہو کہ ہم کامل مسلمان نہیں تھے۔ کیا یہ صحیح نہیں ہے؟ امت مسلمہ پر اللہ کا یہ احسان عظیم ہے کہ احیائے دین و سنت کے لیے تواتر کے ساتھ صدیقین صالحین مجددین محدثین مفسرین متکلمین فقہاء و علماء کو بھیجتا رہا ہے۔ جو اللہ تعالی سے سب سے زیادہ ڈرنے والے ہادی و مرشد ہیں؛ اِنَّمَا یَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُا (آیت نمبر 28، سورہ فاطر) وہ تو سلف صالحین تھے۔ کیا موجودہ دور کے علماء ان صفات حسنہ سے متصف ہیں؟
نبوت کا سلسلہ بند ہو چکا ہے اس لیے اب انبیاء علیہم السلام کے ذمہ داریاں علماء کرام کی ہیں؛ العلماء ورثۃ الانبیاء علماء ہی انبیاء کے وارث ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کم و بیش ایک ہزار سال تک علمائے سلف صالحین، جن کا اختلاف بھی اللہ تعالی کے لیے تھا اور اتحاد بھی؛ الحب في الله والبغض في الله، ان کی خاصیت تھی ان کی رہنمائی اور خدمت قرآن و سنت اللہ تعالی کی رضا کے لیے تھی۔ نتیجے کے طور پر ہزار سال تک مسلمان مصائب و آلام کا سامنا کرتے ہوئے بھی ترقی پذیر ہی رہے۔ اور اسلام ان مقدس علمائے کرام کے حسن عمل سے چہار دانگ عالم میں پھیلاتا رہا اور مسلمانوں کے حکمرانی شان و شوکت کے ساتھ بڑھتی رہی،چلتی رہی۔
وہ علماء حسن تھے جنہیں دیکھ کر لوگ اسلام سیکھتے تھے وہ گزر گئے۔ پھر علمائے سو کا دور آیا۔ جو اللہ تعالی کے علاوہ سب سے ڈرتے ہیں۔ جن کی صحیح ترجمانی اس حدیث پاک سے ہوتی ہے عَنْ عَلِيِّ بْنِ اَبِيْ طَالِبْ رَضِيَ اللّٰه تَعَالٰى عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله تعالى عليه وسلم يُوشَكُ أَنْ يَأْتِيَ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لَا يَبْقِى مِنَ الْإِسْلَامِ إِلَّا اِسْمُه،وَلَا يَبْقِى مِنَ الْقُرْآنِ إِلَّا رَسْمُهُ،مَسَاجِدُهُمْ عَامِرَةٌ وَهِيَ خَرَابٌ مِنَ الْهُدَى،عُلَمَاؤُهُمْ شَرُّمَنْ تَحْتَ أَدِيمِ السَّمَاءِ،مِنْ عِنْدِهِمْ مَخْرُجُ الْفِتْنَةُوَفِيهِمْ تَعُودُ السُّنَّةُ فِيهِمْ بِدْعَةٌ،وَالْبِدْعَةُ فِيهِمْ سُنَّةٌ.(شعب الایمان جلد 3، صفحہ 31) مولائے کائنات حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ آقائے کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ اسلام باقی نہیں رہے گا، مگر صرف اس کا نام۔ قرآن باقی نہیں رہے گا مگر صرف اس کا رسم الخط۔ ان کی مسجدیں خوبصورت ہوں گی۔
مگر ہدایت سے بالکل خالی ہوں گی۔ ان کے علماء آسمان کے نیچے تمام لوگوں میں سے سب سے زیادہ برے لوگ ہوں گے۔ ان ہی کے پاس سے فتنہ پیدا ہوگا اور پھر ان ہی میں لوٹے گا۔ سنت ان کے یہاں بدعت ہوگی (یعنی وہ سنت چھوڑیں گے) اور بدعت ان کے یہاں سنت ہوگی (یعنی بدعت پر اصرار کریں گے) اسی حدیث کو دیلمی نے اپنی مسند الفردوس میں ان الفاظ کے ساتھ روایت کی ہے هَمْهُمْ بُطُوْنُهُمْ وَشَرَفُهُمْ مَتَاعُهُمْ وَقِبْلَتُهُمْ نِسَاؤُهُمْ وَدِينُهُمْ دَرَاهِمُهُمْ ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ اس وقت کے علماء کے مقاصد ان کے شکم ہوں گے (یعنی دین و سنت کا ہر کام شکم پروری کے لیے ہی کریں گے) ان کی شرف و بزرگی تقوی و پرہیزگاری سے نہیں بلکہ مال و دولت سے سمجھی جائے گی۔
ان کی بیویاں ہی ان کے قبلہ ہوگیں اور ان کا دین درھم و دنیا ہوں گے وہ مفتی جو بغیر استفتاء کے ہر دن اپنے فتوے سے فتنہ پیدا کرتا ہے تاکہ سوشل میڈیا سے شہرت اور مال و زر ملے۔ مقرر شاعر رہنما خطیب نقیب امام مہتمم مدرس کیا ان سب کا عمل مذکورہ حدیث پاک کا ترجمان نہیں ہے؟ اگر ہے اور اکثریت کا حال بالکل ویسا ہی ہے جیسا کہ حدیث پاک میں مذکور ہے تو یہ لوگ ان علماء یہود کی طرح ہیں جو تھوڑی سی دنیاوی مال و زر اور شہرت کے لیے دین بیچتے ہیں۔ اس کے نتیجے جو ہو سکتے ہیں وہ ہمیں ہر طرف مسلمانوں کی پسپائی کی شکل میں نظر آرہے ہیں۔
آج امریکہ کے واشنگٹن سے لے کر ناگپور تک بجرنگ دل اور ویشو ہندو پریشد وغیرہ کی ہر بیٹھک میں ہماری بربادی کے مشورے ہو رہے ہیں کہ ہم مسلمانوں کو آپس میں کیسے لڑایا جا سکتا ہے؟۔ ہم آپس میں لڑ کر کیسے ایک دوسرے کو جانی و مالی نقصان پہنچا سکتے ہیں؟۔ پھر آسانی کے ساتھ وہ کیسے ہمیں ایک ایک کر کے ختم کر سکتے ہیں؟ ان کے مذہبی رہنما اور عقلاء و فضلاء اس کی کثرت سے مشورے کر کے ترکیبیں نکال رہے ہیں۔ اور ہم مسلمان پر وہ آزما بھی رہے ہیں۔ مگر ہماری حالت کیا ہے؟ اور ہمارے رہنما اور ہمارے علماء کیا کر رہے ہیں؟ یہ دو رکعت کے امام اور بغیر طلب کے فتوی دے کر سوشل میڈیا کے ذریعہ مال و زر اور شہرت کے طلبگار فتنہ پیدا کرنے والے مفتیوں کے سوشل میڈیا گروپ میں جا کر دیکھیں آپ کو اندازہ ہوگا کہ ہم مسلمانوں کی حالت دن بدن کیوں خراب ہوتی جا رہی ہے۔
یہ شکم پروری کے لیے امامت و خطابت کرنے والے اور خلافت لے کر خالی آفت پیدا کرنے والے علمائے سو ہیں جن کا ہر اقدام طلب دنیا کے لیے ہے۔ ان کا محاسبہ کیا جانا چاہیے؟ ہو اگر نیت بری اچھے عمل بیکار ہیں جاگتا ہے درد بھی مثل نگہبان رات بھر قرآن مقدس کی اس آیت کریمہ کے ترجمہ کے ساتھ ناچیز کی ناقص باتیں مکمل ہوتیں ہیں۔ مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الْاٰخِرَةِ نَزِدْ لَهٗ فِیْ حَرْثِهٖۚ-وَ مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الدُّنْیَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا وَ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ نَّصِیْبٍ(آیت نمبر 20،سورہ الشوریٰ) جو (اپنے اعمال کے ذریعہ) آخرت کی کھیتی کی نیت کرتا ہے۔ (تو اللہ فرماتا ہے) کہ ہم اس کی آخرت کی کھیتی کو بڑھائیں گے۔ اور جو (اپنے اعمال کے ذریعہ) دنیا کی کھیتی کا ارادہ کرتا ہے تو ہم اسے دنیا دیتے ہیں۔
اور اس عمل کے بدلے میں آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں رہتا۔ مفہوم یہ ہے کہ جو لوگ اپنے ہر عمل کو اللہ تعالی کی رضا کے لیے کرتے ہیں تو اللہ تعالی انہیں اس کا بدلہ آخرت میں بھی دے گا اور دنیا میں بھی عطا فرمائے گا۔ لیکن جو لوگ طلب دنیا کے لیے دینی کام کرتے ہیں۔ تو انہیں دنیا تو مل جائے گی لیکن آخرت میں اس کو کچھ نہیں ملے گا کہ اس نے آخرت کے لیے کچھ کیا ہی نہیں ہے۔
علمائے کرام کے ساتھ عام مسلمانوں کو بھی چاہیے کہ اللہ تعالی سے ڈرنے والے علماء کرام اور فتنہ پیدا کر کے شہرت اور دنیا طلب کرنے والے علماء کے درمیان فرق ظاہر کریں۔ ہمیں شناخت کرنا ہوگا کہ کون صحیح کام کر رہا ہے اور کون فتنہ پیدا کر رہا ہے؟ وطن کی فکر کرناداں مصیبت آنے والی ہے تیری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں چھپا کر آستیں میں بجلیاں رکھی ہے گردون نے عنادل باغ کے غافل نہ بیٹھیں آشیانوں میں سن اے غافل صدا میری یہ ایسی چیز ہے جسکو وظیفہ جان کر پڑھتے ہیں طائر بوستانوں میں نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤ گے اے ہندوستاں والو تمہاری داستاں تک نہ ہوگی داستانوں میں