اسراء اور معراج کا واقعہ اسلامی تاریخ کے سب سے عظیم اور بابرکت واقعات میں سے ایک ہے۔ یہ وہ مبارک رات ہے جب اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی حضرت محمد ﷺ کو ایک حیرت انگیز اور معجزانہ سفر سے نوازا۔ ایک ہی رات میں نبی ﷺ کو مسجدِ حرام مکہ مکرمہ سے مسجدِ اقصیٰ فلسطین تک لے جایا گیا، اور پھر وہاں سے آسمانوں کی بلندیوں تک عروج عطا کیا گیا۔
Table of Contents
یہ سفر صرف جسمانی نہیں تھا بلکہ روحانی، ایمانی اور رب سے قربت کا سفر تھا۔ اس واقعے نے زمین اور آسمان، دنیا اور آخرت، انسان اور خالق کے درمیان ایک مضبوط تعلق کو ظاہر کیا۔ صدیوں بعد بھی یہ واقعہ مسلمانوں کے دلوں کو ایمان، صبر اور امید سے بھر دیتا ہے۔
یہ واقعہ ہجرتِ مدینہ سے تقریباً ایک سال پہلے پیش آیا، ایسے وقت میں جب نبی کریم ﷺ کی زندگی کا ایک مشکل ترین دور چل رہا تھا۔ اس کے باوجود، اللہ تعالیٰ نے اسی وقت اپنے نبی کو عزت، تسلی اور قربت عطا فرمائی۔
یہ صرف فاصلوں کا سفر نہیں تھا
اسراء اور معراج محض ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کا نام نہیں تھا۔ یہ ایمان، صبر، قیادت، اور اللہ کے قریب ہونے کا سفر تھا۔ اس رات اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو وہ تحفے عطا کیے جو آج تک مسلمانوں کی روزمرہ زندگی کو رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔
رات کے سفر کا آغاز
مکہ مکرمہ کی ایک پُرسکون رات تھی۔ نبی کریم ﷺ خانہ کعبہ کے قریب موجود تھے۔ اس وقت آپ ﷺ کی عمر تقریباً 52 سال تھی اور آپ کو اسلام کی دعوت دیتے ہوئے دس سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا تھا۔ اس دوران آپ ﷺ نے سخت مخالفت، طعن و تشنیع، تکلیف اور ظلم برداشت کیا۔
آپ ﷺ کے کئی قریبی ساتھی اور مددگار وفات پا چکے تھے۔ قریش کی دشمنی دن بہ دن بڑھ رہی تھی۔ ایسے حالات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو ایک خاص اعزاز عطا کرنے کا فیصلہ فرمایا۔
اسی رات حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی ﷺ کے پاس آئے اور اللہ کا حکم سنایا۔
روحانی پاکیزگی
سفر سے پہلے ایک خاص عمل کیا گیا۔ زمزم کے کنویں کے قریب نبی ﷺ کا سینہ مبارک کھولا گیا۔ آپ ﷺ کا دل نکالا گیا اور اسے زمزم کے پانی سے دھویا گیا، پھر اسے ایمان، حکمت اور صبر سے بھر دیا گیا۔
یہ عمل اس بات کی علامت تھا کہ یہ سفر صرف جسمانی نہیں بلکہ روحانی طور پر بھی ایک غیر معمولی سفر تھا، جس کے لیے خاص تیاری ضروری تھی۔
براق کی سواری
اس کے بعد ایک خاص سواری لائی گئی جسے براق کہا جاتا ہے۔ براق سفید رنگ کا جانور تھا، جو خچر سے چھوٹا اور گدھے سے بڑا تھا۔ اس کی رفتار بہت تیز تھی اور وہ ایک قدم میں وہاں پہنچ جاتا جہاں اس کی نظر جاتی۔
یہی براق پہلے انبیاء کو بھی لے جا چکا تھا، جو اس بات کی علامت ہے کہ تمام انبیاء کا پیغام ایک ہی تھا اور سب اللہ کے منتخب بندے تھے۔
مکہ سے مسجدِ اقصیٰ تک
اس سفر کے پہلے حصے کو اسراء کہا جاتا ہے۔ اس مرحلے میں نبی کریم ﷺ کو مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک لے جایا گیا، وہ بھی ایک ہی رات میں۔
راستے میں نبی ﷺ نے چند اہم مقامات پر قیام فرمایا۔
آپ ﷺ مدینہ کے مقام پر رکے، جو بعد میں آپ کا وطن بننے والا تھا۔
آپ ﷺ کوہِ طور پر رکے، جہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ سے کلام کیا تھا۔
آپ ﷺ بیت اللحم کے مقام پر بھی رکے، جہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت ہوئی تھی۔
یہ تمام مقامات اس بات کی نشانی تھے کہ تمام انبیاء کا راستہ اور پیغام ایک ہی ہے۔
مسجدِ اقصیٰ میں انبیاء کی امامت
جب نبی ﷺ مسجدِ اقصیٰ پہنچے تو وہاں ایک حیرت انگیز منظر تھا۔ اللہ تعالیٰ کے تمام انبیاء وہاں جمع تھے۔ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک سب موجود تھے۔
نبی کریم ﷺ نے سب انبیاء کی امامت فرمائی۔ یہ اس بات کی علامت تھی کہ آپ ﷺ آخری نبی ہیں اور تمام انبیاء کے پیغام کو مکمل کرنے والے ہیں۔
دودھ، پانی اور شراب کے پیالے
نماز کے بعد حضرت جبرائیل علیہ السلام تین برتن لائے۔ ایک میں پانی تھا، دوسرے میں دودھ، اور تیسرے میں شراب۔
نبی ﷺ نے دودھ کو منتخب فرمایا۔
حضرت جبرائیل نے فرمایا کہ آپ ﷺ نے فطرت کا راستہ اختیار کیا ہے۔ دودھ پاکیزگی، توازن اور انسان کی اصل فطرت کی علامت ہے۔
آسمانوں کی طرف سفر
اسراء کے بعد سفر کا دوسرا حصہ شروع ہوا جسے معراج کہا جاتا ہے۔ اس مرحلے میں نبی کریم ﷺ کو آسمانوں کی بلندیوں تک لے جایا گیا۔
حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی ﷺ کے ساتھ تھے۔ ہر آسمان پر فرشتے اجازت طلب کرتے، اور نبی ﷺ کا تعارف کروانے کے بعد دروازے کھول دیے جاتے۔
پہلے آسمان میں حضرت آدم علیہ السلام
پہلے آسمان میں نبی ﷺ کی ملاقات حضرت آدم علیہ السلام سے ہوئی۔ وہ اپنی اولاد کے اعمال دیکھ رہے تھے۔ نیک لوگوں کو دیکھ کر خوش ہوتے اور گناہ گاروں پر افسوس کرتے۔
دوسرے آسمان میں حضرت یحییٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ
دوسرے آسمان میں نبی ﷺ نے حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام سے ملاقات کی۔ دونوں نے نبی ﷺ کو خوش آمدید کہا اور دعا دی۔
تیسرے آسمان میں حضرت یوسف علیہ السلام
تیسرے آسمان میں حضرت یوسف علیہ السلام سے ملاقات ہوئی، جنہیں اللہ نے بے مثال حسن عطا فرمایا تھا۔ ان کا چہرہ چاند کی طرح روشن تھا۔
باقی آسمانوں میں دیگر انبیاء
آگے چل کر نبی ﷺ نے حضرت ادریس، حضرت ہارون، حضرت موسیٰ اور ساتویں آسمان میں حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ملاقات کی۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام بیت المعمور کے قریب تشریف فرما تھے، جہاں روزانہ بے شمار فرشتے عبادت کے لیے آتے ہیں۔
عبرت ناک مناظر
معراج کے دوران نبی ﷺ کو کئی مثالیں دکھائی گئیں۔
کچھ لوگ کھیتی کاٹ رہے تھے جو فوراً دوبارہ اُگ آتی تھی۔ یہ صدقہ دینے والوں کی مثال تھی۔
کچھ لوگوں کے سر بہت بھاری تھے، یہ نماز میں سستی کرنے والوں کی علامت تھی۔
کچھ لوگ بوجھ اٹھائے ہوئے تھے اور مزید بوجھ ڈال رہے تھے، یہ امانت میں خیانت کرنے والوں کی مثال تھی۔
یہ سب مناظر انسانوں کو سیدھا راستہ دکھانے کے لیے تھے۔
سدرة المنتہیٰ اور اللہ سے ملاقات
سفر کا سب سے بلند مقام سدرة المنتہیٰ تھا۔ یہاں تک حضرت جبرائیل بھی نہیں جا سکتے تھے۔ نبی ﷺ اکیلے آگے بڑھے۔
یہ وہ مقام تھا جہاں نبی ﷺ اللہ کے سب سے قریب ہوئے۔
نماز کا تحفہ
یہاں اللہ تعالیٰ نے پچاس نمازیں فرض فرمائیں۔ واپسی پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مشورے سے نبی ﷺ نے تخفیف کی درخواست کی۔
آخرکار پانچ نمازیں فرض ہوئیں، مگر اجر پچاس کا رکھا گیا۔ یہ اللہ کی رحمت کی عظیم مثال ہے۔
واپسی اور ایمان کا امتحان
صبح سے پہلے نبی ﷺ واپس مکہ پہنچ گئے۔ جب آپ ﷺ نے یہ واقعہ بیان کیا تو بہت سے لوگ مذاق اڑانے لگے۔
حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فوراً تصدیق کی اور اسی وجہ سے صدیق کہلائے۔
نتیجہ
اسراء اور معراج ہمیں سکھاتے ہیں کہ مشکل وقت میں بھی اللہ قریب ہوتا ہے۔ نماز اللہ سے براہِ راست تعلق ہے۔ ایمان کا مطلب صرف دیکھنا نہیں بلکہ ماننا بھی ہے۔
یہ واقعہ ہمیں صبر، امید، اور اللہ پر بھروسہ کرنا سکھاتا ہے۔ اللہ آج بھی اپنے بندوں کے دلوں کو اسی طرح بلند کرتا ہے جیسے اس نے اپنے محبوب ﷺ کو بلند کیا۔
حوالہ
سورۃ الاسراء (17:1) احادیثِ نبوی ﷺ (صحاحِ ستہ)
مزید اسے پڑھیں